Urdu Forum & Inpage Reseller  

Go Back   Urdu Forum & Inpage Reseller > Talk + > Halaat e Hazira

Notices

Halaat e Hazira Discussion about politics in Pakistan , Government of Pakistan, National assembly of Pakistan , Pakistani media &journalists, Supreme Court of Pakistan, Pakistani police, education system in Pakistan, World affairs etc.


*** ہندوستان اور پاکستان میں اسلام کی آمد ***


Reply
 
Thread Tools Display Modes
  #1  
Old 05-27-2006, 01:56 AM
SARKAR's Avatar
SARKAR SARKAR is offline
Senior Member
 
Join Date: Sep 2005
Posts: 390
Rep Power: 1
SARKAR is an unknown quantity at this point
*** ہندوستان اور پاکستان میں اسلام کی آمد ***

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔

اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہئے جو بھلائی کی طرف بلائے اور نیک کاموں کا حکم کرے اور برے کاموں سے روکے۔(ال عمران۔١٠٤)۔

ہر قسم کی تعریفات اس اللہ وحدہ لاشریک کے لئے لائق و زیبا ہیں جس نے ہمیں اور آپ کو پیدا فرمایا اور دورد و سلام اس ذات اقدس پر جن کا نام نامی محمد صلی اللہ علیہ وسلم بن عبداللہ ہے

چین و عرب ہمارا ہندوستان ہمارا
مسلم ہیں ہم وطن ہیں سارا جہاں ہمارا
توحید کی امانت سینوں میں ہے ہمارے
آسان نہیں مٹانا نام و نشان ہمارا
دنیا کے بُت کدوں میں پہلا وہ گھر خدا کا
ہم اُس کے پاسبان ہیں وہ پاسبان ہمارا
مغرب کی وادیوں میں گونجی اذان ہماری
تھم تا نہ تھا کسی سے سیل رواں ہمارا
باطل سے ڈرنے والے اے آسمان نہیں ہم
سو بار کر چکا ہے تو امتحان ہمارا
اے عرض پاک تیری حرمت پہ کٹ مریں ہم
ہے خون تیری رگوں میں اب تک رواں ہمارا
سالار کارواں ہے میر حجاز اپنا
اسلام سے ہے باقی عالم جاں ہمارا


برادران اسلام واجب الحترام۔
بھائیوں۔ بہنوں۔ دوستوں۔ عزیز ساتھیوں۔
اسلام علیکم۔

ہندوستان اور پاکستان میں اسلام کی آمد


عزیز دوستوں!
آج کا یہ موضوع چند اہم باتوں پر مبنی ہو گا، جس میں ہندوستان میں اسلام کی آمد کی تاریخ، نمبر دو وہ کون لوگ تھے جنہوں نے اسلام کو ہندو پاک میں داخل کیا، نمبر تین ایک تاریخی پس منظر اصلی اور نقلی کا فرق تاریخی حوالوں کی روشنی میں اور نمبر چار ایک اہم شبہ یا غلط فہمی کے صوفیوں کی بدولت ہندوستان میں اسلام آیا یا بعض خود ساختہ بزرگوں اور ولیوں سے اسلام ہندوستان کے اندر آیا ہم انشاء اللہ اس کا بھی تاریخی جائزہ لیں گے، نمبر پانچ صوفیا کی ہندوستان میں آمد اور ان کا تاریخی پس منظر آپ دوستوں کی سامنے پیش کرنے کی سعادت حاصل کروں گا، اور نمبر چھ تب اور اب یعنی تقلی اور اصلی اسلام وہ کون سا اسلام تھا جو برصغیر ہندوستان اور پاکستان کے اندر آیا اور اس کے علاوہ بھی کچھ اہم اور ضروری باتیں انشاء اللہ بیان کرنے کی سعادت چاہوں گا جو آج کے اس موضوع کی زینت ہیں۔

عزہز دوستوں!
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ایک دن آئے گا کہ علم اُٹھتا جائے گا اور علم کیسے اُٹھے گا پیغمبر اسلام نے فرمایا کے اہل علم اُٹھتے جائیں گے اس طرح سے علم ختم ہوتا جائے گا۔ تو لوگ جاہلوں کو اپنا امام بنائیں گے گمراہوں کو اپنا رہبر و رہنما بنائیں گے وہ فتوے دیں گے مسئلے بیان کریں گے وہ تو خود گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔

اللہ نہ کرے کہ ہم لوگوں پر یہ زمانہ آئے دوستوں یہ ہماری ذمداریاں ہیں کہ ہم اپنے نبی جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث سے محبت پیدا کریں انھیں سیکھنے انھیں پڑھنے اور اُس پر تحقیق اور بحث کرنے کے لئے اپنی توانائیاں خرچ کریں تاکہ جو خلاء اُمت مسلمہ کے اند پیدا ہوتا جا رہا ہے اس خلاء کو بھرا جائے اور انشاء اللہ اسلام قیامت تک کے لئے ہے ۔۔۔

ارشاد باری تعالٰی ہے۔
ہم نے اس قرآن کو نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت بھی کریں گے (القرآن)۔

عزیز دوستوں!
رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے جا چکے ہیں لیکن انبیاء کی وفات سے اللہ کا دین نہیں مرتا ہے ہمیں اللہ نے یہ درس دیا ہے انبیاء آتے ہیں جانے کے لئے مبلغین آتے ہیں جانے کے لئے داعی اللہ آتا ہے جانے کے لئے لیکن اللہ کا دین کسی کی وفات سے نہیں مرتا ہے اللہ کا دین ان کے ختم ہونے سے نہیں ختم ہوتا بلکہ اللہ وحدہ لاشریک اپنے دین کی حفاظت کے لئے اُمت میں ایسے لوگوں کو پیدا فرمائے گا جو اس دین کی حفاظت کرتے رہیں انشاء اللہ بآذن اللہ۔۔ عزیز دوستوں میں اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کہہ سکتا آئیے ہم اپنے موضوع کی طرف پلٹتے ہیں۔۔۔۔

عزیز دوستو!
اپنے اصلاف کی تاریخ کو یاد رکھو اُسے اپنے ذہنوں میں محفوظ رکھو اپنی اولاد کو یہ باتیں بتاتے رہو تاکے ہماری اولاد ان باتوں کو اپنے ذہن میں رکھے دوستوں آپ سوچتے ہوں گے کہ اس وقت اس موضوع پر بات کرنے ضرورت کیونکر پیش آئی کے برصغیر ہندوستان اور پاکستان میں اسلام کیسے آیا اس پر روشنی ڈالنے کی کیا ضرورت ہے درحقیقت میں بھی اس موڈ میں نہیں تھا دوستوں اس موضوع کی ضرورت کیوں پڑی اس کی وجوہات کیا ہیں لیکن اس سے پہلے میں آپ دوستوں سے یہ سوال کرنا چاہوں کے آپ کو یہ اسلام برصغیر پاک و ہند میں کس طرح آیا کب داخل ہوا اس کی کیا تاریخ ہے وہ کون لوگ تھے جنہوں نے اسلام کو ہندوستان کی دھرتی پر پہنچایا؟۔۔

میں سمجھتا ہوں کے میرے اس سوال کا جواب بہت ہی کم دوستوں چند ایک سے سوا کسی کے پاس نہیں ہوگا اس میں کوئی شک کی بات نہیں ماشاء اللہ تبارک اللہ آپ سب مسلمان ہیں آپ کو اپنے اسلام سے محبت ہے اس میں کوئی شک نہیں لیکن یہ نہیں پتہ ہے کہ ہمارا اسلام ہمیں جس سے اتنی محبت ہے ہمیں کیسے ملا ہم کو کس نے لا کر دیا یہ کوئی پرندا تھا جو اُڑ کر ہندوستان یا پاکستان میں پہنچ گیا کیا تھا یہ نہیں پتہ ہم کو اپنی تاریخ کا کروڑوں مسلمان رہتے اور بستے ہیں اور یہ وہ وجہ ہے ہماری اس ہی لاعلمی کی وجہ سے ہماری اسی جہالت کی وجہ سے ہمارے ہاں مسلمانوں کو الٹی سیدھی تاریخ بتا کر حق کو باطل اور باطل کو حق میں بڑی آسانی سے تبدیل کر دیا جاتا ہے اور ایسے منہ پھت اور بے لگام مؤرخ اور تاریخ داں جو کہتے ہیں کہ برصغیر میں اسلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ٥٠٠ ،٦٠٠ برس بعد برصغیر میں آیا۔ (استغفراللہ) یہ مؤرخ اتنے نادان اتنے نا سمجھ جو خود ہی اپنے پیروں پر کلہاڑی مار رہے ہیں اور اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی قبریں کھود رہے ہیں اور حقیقت کو مسخ کر رہے ہیں۔ آج کے اس دور میں کم از کم ہر مسلمان کو جہاں وہ رہتا اور بستا ہے اتنی بات تو ضرور معلوم ہونی چاہئے اس کا دین اس کا مذہب کب اُس کو ملا جسے خود اپنی تاریخ اور دین کا علم نہ ہو تو اُس کو کوئی بھی آسانی سے بدعقیدہ بنا سکتا ہے کوئی اس کو خود ساختہ مذہب اور چند کرامات، کشف اور منامات خوابوں کے گھروندوں پر مشتمل مذہب کو اسلام بتا کر اسے گمراہ کر سکتا ہے اور عقیدے ہٹا سکتا ہے بلکہ عزیز دوستوں ہمارے ملکوں میں ایسا کیا بھی جا رہا ہے بنا سکنے کی بات تو الگ ہے ہمارے ملک میں تو یہ کیا بھی جا رہا ہے اور گلے پھاڑ پھاڑ کر مولوی یہ کر بھی رہے ہیں اور افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اُنہیں کوئی روکنے والا بھی نہیں، انھیں کوئی بتانے والا نہیں کہ پیارے یہ تم کیا کر رہے ہو وہ اسلام کب آیا اور تم کب اسے ثابت کر رہے ہو خود اپنے پیروں پر کلہاڑی مار رہے ہو کوئی ان سے سوال کرے کہ آخر اسلام کو اتنا پیچھے دھکیل کر تم اسلام کی کون سی خدمت کر رہے ہو اور آج یہ ہی لوگ اپنے آپ کو مفکر اعظم، غازی ملت، اور نا جانے کون کون سے ملت اور اسلام کے علمبردار ثابت کررہے ہیں اور یہ بیچارے ان پڑھ کم علم لوگ ان کو اپنا رہبر، اپنا مرشد، اپناحادی، اپنا پیر، اپنا علامہ سمجھ کر ان ہاں میں ہاں ملا کر خوب ان کے نعروں پہ نعرے لگا رہے ہیں کہ ہاں واقعی اسلام برصغیر پاک و ہند میں ان ہی کے ذریعے سے آیا ہے۔۔۔۔

__________________
Reply With Quote
  #2  
Old 05-27-2006, 01:57 AM
SARKAR's Avatar
SARKAR SARKAR is offline
Senior Member
 
Join Date: Sep 2005
Posts: 390
Rep Power: 1
SARKAR is an unknown quantity at this point
عزیزدوستوں!۔
ایسے ماحول میں اُمت مسلمہ کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے اور ایسے ماحول میں ہر نوجوان کو بیدار کرنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے کہ اُس نوجواں کا رشتہ اس مسلمان کا رشتہ اُس کے ماضی سے جوڑ دیا جائے اور تاریخی پس منظر کے حوالوں سے اسے یہ بات بتائی جائے کہ ان کو اسلام ان کے ملک میں کب اور کیسے پہنچا اور یہ کہ کس حالت میں پہنچا اور کس شکل و صورت میں پہنچا یہ جاننا بے حد ضروری ہے تاکہ جھگڑا ختم ہوجائے معاملہ ہی ختم ہو جائے کون نیا کون پرانا جیسا کے ہمارے ہاں اکثر اس بات کو لے کر جھگڑا ہوتا ہے کہ تم کتنی صدی پہلے آئے ہو میاں تمہیں تو آئے ہوئے جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں ہم تو بہت پرانے ہیں اور کئی بار تو توبت یہاں تک آجاتی ہے کہ شجرے ملائے جاتے ہیں کہ ہم انتے پرانے تم اتنے نئے ان مسئلوں کو چھیڑنے کا مقصد ہی اُمت کو ٹکرے ٹکرے کرکے فرقوں میں بانٹ دینا ہے، لیکن اگر مسلمانوں کو ان کی اصلی تاریخ بتا دی جائے کہ اُن کو اسلام کب اُن کے پاس پہنچا اور وہ کس شکل و صورت میں تھا تو میں یہ سمجھتا ہوں کے جھگڑا ختم ہوجائے گا، ایک مکتبہ فکر کہتا ہے میاں تو نیا، دوسرا مکتبہ فکر کہتا ہے میاں تو نیا۔۔ ایک مکتبہ فکر کہتا ہے میں اصلی تو نقلی، دوسرا مکتبہ فکر کہتا ہے تو نقلی میں اصلی، اب ایک مثال سے اس بات کا جواب ڈھنڈنے کی کوشش کرتے ہیں، کہ دو بندے داتا دربار جانے کے لئے دو مختلف تاریخوں کو اپنے اپنے علاقوں سے نکلتے ہیں اب دونوں مرید مختلف تاریخوں پر جائے مقام پر پہچنتے ہیں۔ ایک ٨ محرم کو پہنچتا ہے اور دوسرا ٩ محرم کو تو ظاہر ہے جو ٨ محرم کو پہنچا وہ پہلے آیا اور جو ٩ محرم کو پہنچا وہ دیر سے آیا۔۔۔ یعنی دو مرید دیر سے پہنچا وہ جھوٹا یعنی معاملہ حل ہوگیا تو انشاء اللہ میں بھی اس معاملے کو حل کرنے کی پوری کرنے کی کوشش کروں گا انشاء اللہ تبارک و تعالٰی۔۔۔

عزیز دوستوں!۔
یہ بڑی ہی اہم اور بہت ہی ضروری مسئلہ ہے جس کو انشاء میں بیان کر رہا ہوں کہ آپ کا اسلام آپ تک کب پہنچا۔ حنفی کہہ رہے ہیں ہم آئے شافعی کہہ رہے ہیں ہم آئے، حبنلی کہہ رہے ہیں ہم پہلے آئے مالکی کہہ رہے ہیں کہ ہم پہلے آئے، قادری کہہ رہا ہے میں پہلے آیا، چشتی کہہ رہا ہے میں پہلے آیا، رضوی کہہ رہا ہے میں پہلے آیا، سہروردی کہہ رہا ہے میں پہلے آیا، مرزائی کہہ رہا ہے میں پہلے آیا، دیوبندی کہہ رہا ہے میں پہلے آیا، بریلوی کہہ رہا ہے میں پہلے آیا، اسماعیلی کہہ رہا ہے میں پہلے آیا، بوہری کہہ رہا ہے میں پہلے آیا، سب کہہ رہے ہیں کہ ہم پہلے آئے ہے جھگڑا کہ نہیں ہے؟ ۔۔۔ ہاں آو سب سر جوڑ کر بیٹھو اور میں وہ تاریخ بتاوں گا کہ دنیا کا کوئی مائی کا لال اس تاریخ پر لب بھی نہیں ہلا سکتا ہے۔۔۔ بس میری آپ دوستوں سے درخواست ہے بات کو سمجھنے کی کوشش کریں اور اس کو اپنے ذہنوں میں بیٹھانے کی کوشش کریں تاریخ کے جھروکوں سے جھانکو کہ اسلام جو پاک و ہند میں آیا وہ کب، کیسے وہ کون لوگ تھے اور وہ اسلام تھا بھی کیسا یعنی کون سا اسلام آیا میں تاریخ بتادوں گا انشاء اللہ بات خود آپ دوستوں کی سمجھ میں آجائے گی کہ وہ کون سا اسلام تھا اور اس کی شکل صورت کیا رہی ہوگی آپ خود ہی سمجھ جائیں گے مجھکو کچھ کہنے کی ضرورت نہیں پڑے گی لیکن ہمارے کچھ ایسے بھی نا سمجھ بھائی ہیں جنہیں سمجھانے کی ضرورت پڑتی ہے اس بات کو واضع طور پر پیش کرنا میری عادت میں چاہتا ہوں کہ مسلمان تاریکوں سے نکل کر روشنیوں کی طرف آئیں اب ویسے بھی ماشاء اللہ یہ دور بڑا ہی ترقی یافتہ دور ہے ہر چیز کی سہولت موجود ہے ہم اس عہد کے پیداوار ہیں الحمداللہ۔۔۔

عزیز دوستوں۔۔
تو سب سے پہلے اسلام لے کر سندھ کی سرزمین پر کون اُترا اور وہ کون لوگ تھے جو ہندوستان کے آئے ہم یہاں کسی فرقے کی بات نہیں کر رہے ہیں، اور نہ ہی جماعت کی بات کر رہے ہیں، نہ ہی ہم کسی تنظیم کی بات کر رہے ہیں، خواہ وہ بریلوی ہوں خواہ وہ رافضی ہوں، خواہ وہ دیوبندی ہوں، خواہ وہ قادیانی ہوں، سب اپنے آپ کو اصلی اصلی چیخ رہے ہیں لیکن میرا سوال یہ ہے کہ کونسا وہ آدمی تھا جو تاریخ میں پہلی دفعہ برصغیر ہندو پاک میں آیا اور کون سے سن میں آیا اور سب سے اہم بات کہ وہ کون سا اسلام لے کر آیا؟۔۔ آج اس حقیقت سے پردہ نہیں اُٹھایا جاتا ہے آج یہ حقیقت مسلمانوں کو نہیں بتائی جاتی ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیوں؟۔۔۔۔۔۔ آخر اس حقیقت سے مسلمانوں کو کیوں نہیں روشناس کروایا جاتا ہے اور نہ ہی ہمارے علماء اس موضوع پر گفتگو کرتے ہیں اور اگر لکھتے یا گفتگو بھی کرتے ہیں تو ٦٠٠ یا ٥٠٠ برس کے لیبل کے نیچے سے ہی کھسک آتے ہیں اوپر چھوڑ دیتے ہیں کیوں؟۔۔۔ اب میں بتاتا ہوں کس لئے کہ الجھی ہوئی گتھی کا یہ وہ سرا ہے جو میں آپ دوستوں کو بتانے جا رہا ہوں اگر اس کو کوئی پا لے اور صحیح ڈھنگ سے اسے سمجھ کو مضبوطی سے اسے تھام لے تو ہندوستان اور پاکستان کے اندر ہورہے مذہبی فرقہ واریت اور ہو رہے مذہبی جھگڑے جہاں قتل و خون بپا ہے اور مسجدیں تک محفوظ نہیں علماء کی جانیں بھی محفوظ نہیں۔ یہ سب ختم ہو جائے اور مسلمان پہلے کی طرح بھائی بھائی بن جائیں۔ ایک دوسرے پر جو کیچڑ اچھالی جا رہی ہے اور اس کی پاداش میں جو اسلام کو بدنام کیا جا رہا ہے یہ فضاء ختم ہوجائے لوگ اسلام کو صحیح ڈھنگ سے پہچان لیں۔ لیکن لوگ ٥٠٠ برس سے نیچے کی بات کرتے ہیں اس سے اوپر کی بات نہیں کرتے، آج پاکستان میں کروڑوں مسلمان بستے ہیں لیکن وہ اس حقیقت سے ناواقف ہیں کہ وہ کون لوگ تھے جو اسلام لے کر برصغیر میں آئے تھے۔ ہمارے ہاں جو مشہور ہے وہ میں بتاوں، کہ اسلام برصغیر پاک و ہند میں صوفیائے کرام کے ذریعے سے آیا ہے اولیاء کرام، بزرگان دین جن کو انہوں نے بزرگ بیایا ہوا ہے وہی اسلام کو لے کر برصغیر میں آئے ہیں اور انہی کے ذریعے سے اسلام پھیلا ہے حضرت خواجہ معین الدین چشتی نے نماز پڑھی اور دائیں طرف سلام پھیرا تو ٩٠ ہزار کافر مسلمان ہوگئے اور بائیں طرف سلام پھیرا تو ٩٠ کافر مسلمان ہوگئے، (اللہ اکبر) اس طرح کی کہانیاں سنائی جاتی ہیں اور سر فہرست جن بزرگوں کے نام لئے جاتے ہیں جیسا کہ میں بتا چکاہوں اس میں سے ایک معین الدین چشتی اجمیری صاحب ہیں، اور دوسرے ہیں سید علی ہجویری (داتا گنج) جن کو کہا جاتاہے۔ ایک کو غریب نواز کہا جاتا ہے اور دوسرے داتا گنج، ایک اجمیری ہیں اور دوسرے ہجویری ہیں اور کہتے ہیں جناب کہ انہی دونوں نے اسلام کو پھیلایا ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کون کہتا ہے یہ بات (اللہ اکبر) آئیے ہم ذرا کتابوں کے حوالوں سے کیوں کہ جب تک حوالے موجود نہ ہوں تو مجھکو بھی بات کرنے میں مزہ نہیں آتا۔ تو ایک بہت بڑے اور مشہور عالم ہیں ندوت علماء کے سرپرست بھی ہیں محترم ابوالحسن صاحب ندوی ان کی کتاب تاریخ دعوت و عظیمت (جلد نمبر ٣ صفحہ ١٥) پر بیشک آپ دوست بھی نظر ڈالیں اُس کے اندر انہوں نے یہ ہی لکھا ہے کہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی جب ہندوستان میں آئے تو انہی کے ذریعے سے اسلام کے برب ثمر ہندوستان کے اندر پھیلے اور برصغیر پاک و ہند میں دعوت و تبلیغ کی ذمداری ان ہی کے خاندان کےمرہون منت تھی اچھا جناب یہ ہوئے ایک پارٹی کے لوگ۔۔۔۔۔
__________________
Reply With Quote
  #3  
Old 05-27-2006, 01:58 AM
SARKAR's Avatar
SARKAR SARKAR is offline
Senior Member
 
Join Date: Sep 2005
Posts: 390
Rep Power: 1
SARKAR is an unknown quantity at this point
اب ذرا دوسری پارٹی کا تو خیر کہنا ہی کیا خان صاحب والی جو پارٹی ہے یہ تو شیخ صاحب اور سید صاحب والی پارٹی ہے اب اس خان صاحب والی پارٹی کے بارے میں تو کچھ کہنا ہی فضول ہے یہ تو رٹتے ہی یہ ہے کہ بھائی انہی بزرگوں کے ذریعے سے اسلام برصغیر پاک وہند میں پھیلا یعنی ہمارے ہی بزرگوں نے اسلام کو پھیلایا باقی ایک اور ہیں ابوالامودودی جو جماعت اسلامی کے بانی بھی ہیں ان کی بھی کتاب سے ایک حوالہ میں آپ دوستوں کےسامنے پیش کردیتا ہوں۔ ان کی کتاب ہے (تصوف اور تعمیر سیرت صفحہ نمبر ١٠٢) اس کے اندر مولانا ابوالا مودودی صاحب لکھتے ہیں کہ صوفیائے کرام ہی کے ذریعے سے زیادہ تر اسلام کی دعوت و تبلیغ ہندوستان کی سرزمین پر ہوئی اور انہوں نے ہی ایک بے مثال کرادار ادا کیا اور انہوں نے زیادہ سے زیادہ تبلیغ اور دعوت کا کام کیا۔۔۔

عزیز دوستوں۔
تو آئئے اب ہم ذراداتا گنج علی ہجویر کی تاریخ پیدائش اور برصغیر میں ان کے آنے کی تاریخ کے حوالے سے کچھ معروزات پر روشنی ڈالتے ہیں وہ اس لئے کہ اگر ہم اوپر تیریں گے تو ہم کو سیپیاں ملیں گی اور اگر ہم گہرائی میں غوطہ ماریں گے تو ہم کو موتی ملیں گے برصغیر سے مراد ہندوستا ہی نہیں ہے بلکہ پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا ہے یہ تو جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں کے سرخ لکیریں کھینچ کر سرحدیں بنا دیں ہیں۔ تو دوستوں ذرا ہم ماضی کی طرف اپنے ذہنوں کو لے کر چلتے ہیں ان کی تاریخ پیدائش کیا ہے اور یہ لوگ برصغیر میں کب آئے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں، اب تاریخ میں جب ہم نے دیکھا تو تاریخ نے ہم کو بتایا (اللہ اکبر) دوستوں تاریخ وہ آئینہ ہے جس میں قومیں اپنے عروج و زوال کو دیکھتی ہیں اور اپنی ترقی یا زوال کے اسباب کو تلاش کرتی ہیں تاریخ وہ آئنیہ ہے جو کبھی جھوٹ نہیں بولتا سمجھے دوستوں تو آئیے ذرا تاریخ پر ایک نظر ڈال کر دیکھتے ہیں کے خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کی تاریخ پیدائش کیا ہے اور یہ برصغیر میں کب تشریف لائے۔ تو دوستوں داتا علی ہجویری صاحب جو بڑی مارکہ الاعلی جس کا نام ( کشف المھجوب) ہے سب لوگ جانتے ہیں تصوف کے موضوع پر بڑی نادل اور بے مثال کتا ہے اور مفتی غلام الدین نعیمی انہوں نے اس کتاب کا ترجمہ کیا ہے اور نوری بک ڈپو لاہور سے یہ کتاب چھپی ہے اور سن ١٩٧٨ اس کتاب کے اندر باقاعدہ حضرت صاحب کا مزار ، ان کے مزار پر لکھے ہوئے ان کے کلام ہیں وہ سب موجود ہے بہرحال آئیے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم نے یہ کتاب کیوں اُٹھائی تو دوستوں اس کتاب کو اُٹھانے کا مقصد صرف اتنا ہی تھا کہ یہ کتاب انہوں نے خود لکھی تو ہم اس میں دیکھتے ہیں کہ یہ کب پیدا ہوئے کب مرے اور کب برصغیر میں آئے بس تین چیزیں دیکھ لو باقی یہ کتاب خود فیصلہ کر دے گی تو جب ہم نے کتاب کے پنوں کو پلٹا تو ہم کو پتہ چلا کہ ان کی تاریخ پیدائش غیر معروف ہے ان کی پیدائش کے بارے میں کسی کو کچھ پتہ نہیں ہے اور دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کی موت کب ہوئی ہے تو کتاب سے ہم پتہ چلا کے ان کی موت سن ٤٦٥ ہجری میں واقع ہوئی یعنی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے پانچویں کا ایک حصہ رکھیں یعنی پانچویں صدی میں ان کی وفات ہوئی ملا جامی نے ان کے یہ حساب نکالا ہے، اچھا اب ان کا عقیدہ کیا تھا اس کتاب میں یہ لکھا ہوا کے حضرت مذہب کیا تھا اچھا پانچویں صدی میں ہی یہ پیدا ہوئے اور اسی میں ان کو موت بھی واقع ہوگئی اچھا ان کا مذہب کیا ہے یہ دیکھ لیں، آپ مذہب حنفی اور مشربن جنیدی تھے یعنی ایک ہی مذہب نہیں تھا مذہب حنفی تھا جیسے کہ ہمارے ہاں کے لوگ ہیں آگے لکھے ہیں ہم عقیدے میں اصل عشری ما توریدی ہیں اور جزئیات اور شروعات میں حنفی ہیں یعنی جنیدی کوفی۔ اب تیسرا سوال کہ یہ ہندوستان میں کب تشریف لائے اس کو بھی ان کی کتاب میں دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ حضرت ٤٦٢ ہجری میں برصغیر میں تشریف لاتے ہیں اور عیسویں سال کیا ہوتا ہے سن ١٠٦٩ یعنی ایک کم ٧٠۔۔۔اس سال میں یہ برصغیر میں تشریف لاتے ہیں یعنی کے ہندوستان میں آنے کے تین سال کے بعد ہی حضرت جی کی وفات ہوجاتی ہے تو اس حساب سے ان کو ہندوستان میں کتنا ٹائم ملا تین سال سوچیں دوستوں یہ سب تاریخیں اپنے ذہن میں رکھیں یہ آپ کو کوئی نہیں بتائے گا کتابوں میں لکھا ہے لیکن کون پڑھتا ہے لیکن الحمداللہ ہم فقیر پڑھ پڑھ کر آپ لوگوں کے وقت کی کمی کے باعث کیوں کہ آپ لوگوں کے پاس تو وقت ہی نہیں ہے نوٹ کمانے سے کہاں فرصت ہے کہ تاریخ کو پڑھیں تو ہم نے سوچا کہ کیوں نہ ہم ان اعداد وشمار کو جمع کرکے اپنے دوستوں کے سامنے حقیقت کو پیش کریں تو خیر کوئی بات نہیں ہم غلام حاضر ہیں آپ دوستوں کی خدمت کے لئے پڑھ پڑھ کر بتائیں اور آپ دوست اس کی تحقیق کریں اور ملاوں کو بھی بتلائیں ہمارے ملک کے میں انشاء اللہ آگے بیان کروں گا کہ کیوں میں ان تاریخی پس منظروں کا ذکر کر رہا ہوں ۔۔۔

عزیز دوستوں۔
اب آئیے دوسرے بزرگ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری یہ کب پیدا ہوئے یہ ٥٣٧ ہجری میں پیدا ہورہے ہیں ایک کتاب ہے سلطان ہند خواجہ اجمیری ان ہی کے ڈیپارٹمنت کے کسی چمچے نے لکھی ہے اللہ ہدایت دیں فارقیاء بک ڈپو مولانا ڈاکٹر غلام محمد عاصم اعظمی ہیں انہوں نے یہ کتاب لکھی ہے اس کے اندر بھی انہوں نے یہ ہی لکھا ہوا ہے کے ٥٣٧ ہجری میں یعنی ١١٤٢ عیسوی یعنی چھٹی صدی ہجری میں ہوئی اور ان کی موت کب ہوتی ہے ٦٣٧ ہجری یعنی ١٢٣٥ عیسویں کے اندر ان کی موت آتی ہے اچھا یہ صاحب ہندوستان میں کب آتے ہیں ١٠ محرم ٥٦١ ہجری کو یعنی ١١٦١ عیسویں پر یہ برصغیر کی سر زمین پر آتے ہیں خواجہ معین الدین چشتی اجمیری، یہ دو وہ پہلے بزرگ ہیں جو ہندوستان آتے ہیں سب سے پہلے اس پیاسی سرزمین پر دو بزرگان دین تشریف لاتے ہیں تو دوستوں پانچویں اور چھٹی صدی یاد رہے گی نا آپ کو پانچویں صدی میں علی ہجویری، اور چھٹی صدی میں خواجہ اجمیری،۔۔۔۔ دوستوں بھولنا نہیں ہے کیونکہ بھولنے کی بیماری عام ہے ہمارے ملکوں میں یاد رکھیں ان دو بزرگوں کے علاوہ جب ہم مزید تاریخ کو پلٹ کر دیکھتے ہیں اور بھی کچھ بزرگوں کی ہندوستان آمد کا پتہ ہم کو چلتاہے اس میں پہلے نمبر پر شیخ اسماعیل بخاری ٣٩٥ ہجری یعنی چوتھی صدی میں وہ لاہور آئے ملاحظہ ہو (روح تصوف صفحہ ٩٩)۔۔۔ دوسرے خواجہ ابو محمد بن ابو محمد جو سلطان محمود غزنوی کے ساتھ ہندوستان آئے اور یہ کہاں لکھا ہوا ہے یہ (تاریخ مشائخ چشت) مولانا ذکریا صاحب تبلیغی نصاب والے یاد آیا دوستوں آپ کو انہوں نے جو کتاب لکھی ہے (تاریخ مشائخ چشت) اس کے اندر انہوں نے لکھا ہے کہ چشتی صاحب محمود غزنوی کے ساتھ آئے اور محمود غزنوں سے سن ١٠٠١ سے لے کر سن ١٠٢٥ تک ہندوستان پر ١٧ حملے کئے تھے تو انھی کے ساتھ میں یہ دو بزرگ بھی آئے ۔۔۔

عزیز دوستوں۔
یہ وہ تاریخی حقائق ہیں جن حقائق کا دنیا میں کوئی بھی مائی کا لال انکار نہیں کر سکتا ہے کیوں اس لئے کہ ان کا انکار کرنا اپنی کتابوں کو جھٹلانا ہے اب آئیے ان تاریخی حوالوں کے نتیجوں پر غور کرتے ہیں کہ جناب عالی ان سے کیا نتیجہ نکلتا ہے اور ہمیں ان سے کیا پتہ چلتا ہے۔۔۔ نمبر ایک ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ کوئی بھی صوفی یا کوئی بھی بزرگ چاہے وہ مشہور رہا ہو یا غیر مشہور یعنی معروف ہو یا غیر معروف ہو سلطان محمود غزنوی سے پہلے برصغیر کی سرزمین پر نہیں آیا ٹھیک ہے اور سلطان محمود غزنوی جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں کے ١٠٠١ سے ١٠٢٥ تک اس نے ١٧ حملے ہندوستان پر کئے اچھا جناب عالی ان حوالوں کے مطابق ان سے پہلے کوئی بزرگ ٥ صدی ہجری تک ہندوستان میں نہیں آیا اب اگر ہم مان لیں کہ ان بررگوں نے اسلام کو پھیلایا ہے تو میں ذرا انصاف چاہتا ہوں اور سوال کرتا ہے کہ ہندوستان کی سرزمیں ٥٠٠ سال تک اسلام کی آواز سے یا توحید کی صداؤں سے محروم تھی ثابت ہوتا ہے کہ نہیں ہوتا ہے؟ ۔۔بتائیں دوستوں ؟ اگر میری بات جھوٹی ہے بتائیں پتہ چلتا ہے ان تاریخی حقیقتوں سے اور ان مفکر ملت اور معززین ملت کے حوالوں سے کہ اسلام ان ہی کے ذریعے اور ان ہی کے واسطوں سے پھیلا ہے چاہے وہ کوئی چشتی یا قادری ہوں یا مودودی صاحب ہوں کوئی بھی ہو ان سے یہ پتہ چلتاہے کہ اسلام پانچویں صدی ہجری تک اسلام ہندوستان کی سرزمین پر نہیں آیا تھا ان ہی بزرگوں کے واسطے ان ہی ولیوں اور صوفیوں کے ذریعے سے اسلام ہندوستان کے اندر آیا اور توحید کی صدا پانچویں صدی ہجری تک ہندوستان کی سرزمین سے محروم رہی (نعوذ باللہ من ذلک) ۔۔۔ ہم اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتے کیوں؟۔۔۔ اس لئے ہم حقیقتوں کو جانچنے کی کوشش کرتے ہیں اور میں اپنے ان بزرگوں سے ان ولیوں اور صوفیوں کے حوالے دینے والوں سے میں یہ سوال کرنا چاہتاہوں کہ اے کشف و کرمات کے گھروندوں پر مشتمل گھریلو مذہب پھیلانے والوں، اے خود ساختہ مذہب کو پاکستان میں پھیلانے والوں پاکستان کے ملاوں اگر غیرت ہے تو بتلاو کے اسلام کی آوازوں سے توحید کی صداوں سے پانچ سو برس تک ہندوستان محروم رہا ؟ اللہ تمہیں سمجھے دوستوں میں جیسا کہ اوپر بتایا کہ اس لئے اوپر کی بات نہیں کرتے کہ اگر اوپر کی بات کریں گے تو اصلی اسلام کی بات کرنا پڑے گی اور جب اُس اسلام کی بات کرنا پڑے گی تو یہ شخصی افکار و نظریات پر مشتمل ہمارے یہ محل اور مذہب کے گھر چکنا چور ہو جائیں اور لوگ پوچھیں گے کے مولانا صاحب آپ تو پانچویں صدی کے اسلام کی بات کر رہے ہیں تو پہلی صدی میں کون سا اسلام آیا اور اس اسلام کو کون لے کر آیا سوال کریں گے کہ نہیں کریں گے؟۔۔۔۔تب ان کی پولیں کھولیں ان کے راز کھولیں گے ان رازوں کو چھپانے کے لئے حق بات کوئی مولوی نہیں کریگا اسلامی قلعے کو یہ مولوی کھوکھلاکر رہے ہیں اور اپنے برزگوں کے بنائے ہوئے گھریلو افکار و خیالات کو پھیلانے کے لئے تاریخ کی شکل و صورت کو مسخ کر رہے ہیں میں کہتا ہوں اے دین اسلام کی تاریخ کو مسخ کرنے والوں کہیں اللہ تمہاری شکلوں کو مسخ نہ کردے۔۔۔

کارتوس خان
انشاء اللہ زندگی باقی تو بات باقی
وسلام۔
__________________
Reply With Quote
  #4  
Old 05-27-2006, 02:18 AM
kutkutariyaan's Avatar
kutkutariyaan kutkutariyaan is offline
Senior Member
 
Join Date: Jul 2005
Location: Dream World
Posts: 1,731
Rep Power: 0
kutkutariyaan reputation is unknown at this time
MashaAllah but hiiiiiiiii umda ikha hai


keep it up
Reply With Quote
  #5  
Old 05-27-2006, 03:12 AM
awais-raza's Avatar
awais-raza awais-raza is offline
WDC Student
 
Join Date: May 2006
Location: Faisalabad
Posts: 741
Rep Power: 1
awais-raza reputation is unknown at this time
Mashallahan zabardast
Reply With Quote
  #6  
Old 05-27-2006, 04:36 AM
Deeni's Avatar
Deeni Deeni is offline
Member
 
Join Date: Mar 2006
Location: Islamabad
Posts: 52
Rep Power: 1
Deeni reputation is unknown at this time
Mashallah Bhai Bohot Khowb!!!! Allaah app ko jazaye khair dey. Ameen
Wasalamualykum
Reply With Quote
  #7  
Old 05-27-2006, 08:55 AM
Baazauq's Avatar
Baazauq Baazauq is offline
Senior Member
 
Join Date: May 2004
Location: KSA
Posts: 4,941
Rep Power: 1
Baazauq will become famous soon enough
mazmoon nigaar ka kya naam hai?
barah-e-meherbani hawala dia jaaye, shukria.
__________________

الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُواْ إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
جنہیں ، جب کبھی کوئی مصیبت آتی ہے تو کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم تو خود اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں ۔
( سورة البقرة : 2 ، آیت : 156 )


===

لال مسجد : قومی المیہ

===

احادیثِ نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم) ۔۔۔ اب اُردو میں آن لائن
Reply With Quote
  #8  
Old 05-28-2006, 02:22 AM
ARHAM's Avatar
ARHAM ARHAM is offline
Senior Member
 
Join Date: Dec 2004
Posts: 3,376
Rep Power: 0
ARHAM will become famous soon enough
bhai aap ka ye Article superficially parha ......
aap hamesha achhi sharing karte rahe hain......lekin
agar aap bura na manain tou..........
itne taveel mazameen ek hii nashist mein parha mumkin nhai hota......
agar aap chahte hai k aap ki sharing parhii b jaye tou mukhtasir aur 2 the point likhain........
aap ka be'had shukria....
Reply With Quote
  #9  
Old 05-28-2006, 09:44 AM
rera_avis's Avatar
rera_avis rera_avis is offline
Senior Member
 
Join Date: May 2006
Location: PLANET EARTH
Posts: 594
Rep Power: 0
rera_avis reputation is unknown at this time
Unhappy Firqa-prasti Ka Kartoos.............

http://www.picturetrunk.com/uploads/c7ad08b046.gif
Reply With Quote
  #10  
Old 05-28-2006, 01:10 PM
intoxicated intoxicated is offline
Junior Member
 
Join Date: Apr 2006
Posts: 22
Rep Power: 1
intoxicated reputation is unknown at this time
lakin ajj Kia india ka muslamnoo ka aik Hindoo buniya ki hukmrani main rahna jaiz ha ?????
Nice Sharing
Reply With Quote
Reply


Thread Tools
Display Modes

Posting Rules
You may not post new threads
You may not post replies
You may not post attachments
You may not edit your posts

BB code is On
Smilies are On
[IMG] code is Off
HTML code is Off
Forum Jump


All times are GMT -5. The time now is 09:28 AM.


Powered by vBulletin® Version 3.7.0
Copyright ©2000 - 2014, Jelsoft Enterprises Ltd.
All trademarks and copyrights held by respective owners. We will take action against any copyright violation if it is proved to us. Tel : (0044) 7704455603